اسلام آباد:
حکومت کی قومی ٹیرف پالیسی میں پاکستان کے درآمدی محصولات کے اعدادوشمار اور جنوبی ایشیاکے دیگر ممالک سے ان کے موازنے پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
صنعتکار عامر اللہ والا نے الزام عائدکیا ہے کہ پالیسی میں پاکستان کے ٹیرف کی شرح 18۔54 فیصد ظاہرکرنے کیلیے اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو بھی شامل کیاگیا، جبکہ بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر علاقائی ممالک کیلیے صرف کسٹمز ڈیوٹی کے اعدادوشمار استعمال کیے گئے۔

