Ch. M. Aslam (CEO)   |   0330 9255555   |   0300 9557273   |   0092 51 2233100   |   0092 42 3637272
Advertisement SpaceRecommended: 728 × 90 px
⚡ بریکنگ نیوز
پنجاب میں 20 کلو آٹے کا تھیلا بند، صرف 10 کلو بیگ فروخت ہوگااے آئی ہیکرز سے خود کو بچانے کے لیے سائبر سیکیورٹی کے پانچ طریقےخوشی کی تقریبات میں ضرورت سے زیادہ کھانا دل پر دباؤ بڑھا سکتا ہےعلی ظفر اور حمائمہ ملک پاکستانی کرائم سیریز میں ایک ساتھ جلوہ گر ہوں گےپی ایس ایل: ڈائریکٹ سائننگ، آکشن اور ایونٹ کی تاریخ کا اعلانآبنائے ہرمز میں 7 آئل ٹینکروں پر حملے کا ایرانی دعویٰ، امریکا کو فوجی اڈوں پر حملوں کی دھمکیدہشت گرد جہاں بھی موجود ہوں گے، انہیں سخت جواب دیا جائے گا، فیلڈ مارشلسندھ میں ایف بی آر چھاپوں سے مزید کاٹن جننگ فیکٹریاں، آئل ملز غیر فعال ہونے کے خدشات
October 23, 2026

خوشی کی تقریبات میں ضرورت سے زیادہ کھانا دل پر دباؤ بڑھا سکتا ہے

شادیوں، تہواروں اور دیگر خوشی کے مواقع پر طرح طرح کے پکوان، تلی ہوئی اشیا، مٹھائیاں اور مرغن کھانے تناول کرنا عام ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ کھانا بعض افراد کے لیے صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

ماہرینِ صحت کے مطابق بالخصوص دل کی بیماری، بلند فشارِ خون یا ذیابیطس میں مبتلا افراد کو بھاری کھانے کے معاملے میں زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔

زیادہ مقدار میں کھانا کھانے کے بعد نظامِ ہاضمہ کو کام کرنے کے لیے خون کی فراہمی بڑھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جس سے دل پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ صحت مند افراد کا جسم عموماً اس تبدیلی کو برداشت کر لیتا ہے، تاہم جن لوگوں کی دل کی شریانیں پہلے سے تنگ ہوں یا دل کی بیماری موجود ہو، ان میں بعض حالات میں دل تک خون کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔

تاہم ایک مرتبہ زیادہ کھانا کھانے کا مطلب یہ نہیں کہ دل کا دورہ لازماً پڑے گا۔ دل کے دورے کی اہم وجوہات میں دل کی شریانوں میں خون کی روانی متاثر ہونا اور خون کا لوتھڑا بننا شامل ہیں۔ بھاری غذا بعض حساس افراد میں علامات کو متحرک یا جسمانی دباؤ میں اضافہ کر سکتی ہے۔

Advertisement SpaceRecommended: 728 × 90 px