Ch. M. Aslam (CEO)   |   0330 9255555   |   0300 9557273   |   0092 51 2233100   |   0092 42 3637272
Advertisement SpaceRecommended: 728 × 90 px
⚡ بریکنگ نیوز
پنجاب میں 20 کلو آٹے کا تھیلا بند، صرف 10 کلو بیگ فروخت ہوگااے آئی ہیکرز سے خود کو بچانے کے لیے سائبر سیکیورٹی کے پانچ طریقےخوشی کی تقریبات میں ضرورت سے زیادہ کھانا دل پر دباؤ بڑھا سکتا ہےعلی ظفر اور حمائمہ ملک پاکستانی کرائم سیریز میں ایک ساتھ جلوہ گر ہوں گےپی ایس ایل: ڈائریکٹ سائننگ، آکشن اور ایونٹ کی تاریخ کا اعلانآبنائے ہرمز میں 7 آئل ٹینکروں پر حملے کا ایرانی دعویٰ، امریکا کو فوجی اڈوں پر حملوں کی دھمکیدہشت گرد جہاں بھی موجود ہوں گے، انہیں سخت جواب دیا جائے گا، فیلڈ مارشلسندھ میں ایف بی آر چھاپوں سے مزید کاٹن جننگ فیکٹریاں، آئل ملز غیر فعال ہونے کے خدشات
September 11, 2026

شوگر کی ابتدائی علامات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا مہنگا پڑسکتا ہے

ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جس میں خون میں گلوکوز کی مقدار معمول سے بڑھ جاتی ہے اور اس کا تعلق صرف زیادہ میٹھا کھانے سے نہیں بلکہ کئی دیگر عوامل سے بھی ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس عام پائی جاتی ہے، لیکن اس کی ابتدائی علامات بعض اوقات اتنی معمولی ہوتی ہیں کہ لوگ انہیں نظر انداز کردیتے ہیں۔

جسم خوراک سے حاصل ہونے والے گلوکوز کو توانائی کے لیے استعمال کرتا ہے، جبکہ انسولین وہ ہارمون ہے جو لبلبہ بناتا ہے اور گلوکوز کو جسم کے خلیات تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔ جب جسم مناسب مقدار میں انسولین نہ بنا سکے یا خلیات انسولین کے خلاف مزاحمت کرنے لگیں تو خون میں شوگر بڑھنے لگتی ہے۔

ذیابیطس کی ابتدائی علامات میں غیر معمولی بھوک اور مسلسل تھکاوٹ شامل ہوسکتی ہے۔ اگر جسم گلوکوز کو مؤثر انداز میں توانائی میں تبدیل نہ کرپائے تو انسان کو بار بار بھوک لگنے کے ساتھ کمزوری اور تھکن بھی محسوس ہوسکتی ہے۔

بار بار پیشاب آنا بھی ایک اہم علامت ہوسکتی ہے۔ خون میں شوگر کی مقدار بڑھنے پر جسم اضافی گلوکوز کو پیشاب کے ذریعے خارج کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس کے نتیجے میں معمول سے زیادہ مرتبہ پیشاب آسکتا ہے اور جسم سے پانی بھی زیادہ خارج ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے پیاس میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

منہ کا خشک رہنا اور جلد پر خارش بھی جسم میں پانی کی کمی سے جڑی علامات میں شامل ہوسکتی ہیں۔ زیادہ پیشاب آنے کے باعث جسم میں سیال کی کمی ہوجائے تو منہ خشک ہونے کے ساتھ جلد میں خشکی اور خارش پیدا ہوسکتی ہے۔

پیروں یا ٹانگوں میں مسلسل درد بھی ایسی علامت ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، اگرچہ صرف ٹانگوں کا درد ذیابیطس کی حتمی نشانی نہیں سمجھا جاسکتا۔

اسی طرح بغیر کسی واضح وجہ کے تیزی سے وزن کم ہونا بھی توجہ طلب علامت ہوسکتی ہے۔ جب جسم گلوکوز کو مناسب طریقے سے توانائی کے طور پر استعمال نہیں کرپاتا تو وہ توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے جسم میں موجود دیگر ذخائر استعمال کرسکتا ہے، جس سے وزن میں کمی اور تھکاوٹ محسوس ہوسکتی ہے۔

یہ علامات ذیابیطس کی جانب اشارہ کرسکتی ہیں، تاہم ان میں سے کسی ایک علامت کی موجودگی سے بیماری کی حتمی تشخیص نہیں ہوتی۔ شک کی صورت میں خون کے ٹیسٹ اور ڈاکٹر سے طبی مشورہ ضروری ہے۔

Advertisement SpaceRecommended: 728 × 90 px