Ch. M. Aslam (CEO)   |   0330 9255555   |   0300 9557273   |   0092 51 2233100   |   0092 42 3637272
Advertisement SpaceRecommended: 728 × 90 px
⚡ بریکنگ نیوز
پنجاب میں 20 کلو آٹے کا تھیلا بند، صرف 10 کلو بیگ فروخت ہوگااے آئی ہیکرز سے خود کو بچانے کے لیے سائبر سیکیورٹی کے پانچ طریقےخوشی کی تقریبات میں ضرورت سے زیادہ کھانا دل پر دباؤ بڑھا سکتا ہےعلی ظفر اور حمائمہ ملک پاکستانی کرائم سیریز میں ایک ساتھ جلوہ گر ہوں گےپی ایس ایل: ڈائریکٹ سائننگ، آکشن اور ایونٹ کی تاریخ کا اعلانآبنائے ہرمز میں 7 آئل ٹینکروں پر حملے کا ایرانی دعویٰ، امریکا کو فوجی اڈوں پر حملوں کی دھمکیدہشت گرد جہاں بھی موجود ہوں گے، انہیں سخت جواب دیا جائے گا، فیلڈ مارشلسندھ میں ایف بی آر چھاپوں سے مزید کاٹن جننگ فیکٹریاں، آئل ملز غیر فعال ہونے کے خدشات
September 11, 2026

انسانوں کے حق کےلیے روبوٹس سڑکوں پر نکل آئے، مصنوعی ذہانت کےلیے سخت قوانین کا مطالبہ

مصنوعی ذہانت اور روبوٹ ٹیکنالوجی کے تیزی سے بڑھتے استعمال نے جہاں نئی سہولتوں کے دروازے کھولے ہیں، وہیں انسانی ملازمتوں کے مستقبل سے متعلق خدشات بھی بڑھنے لگے ہیں۔ اسی بحث کو اجاگر کرنے کے لیے پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں تقریباً 30 روبوٹس نے انوکھا احتجاج کیا اور مصنوعی ذہانت و روبوٹائزیشن کے لیے مزید سخت ضوابط بنانے کا مطالبہ کیا۔

یہ مظاہرہ پولینڈ کی وزارتِ ڈیجیٹل امور کے سامنے منعقد کیا گیا، جہاں مختلف اقسام کے روبوٹس نے ہاتھوں میں جھنڈیاں تھام کر مارچ کیا اور مقررہ نعروں کی آوازیں اسپیکروں کے ذریعے نشر کی گئیں۔ مظاہرے میں دو ٹانگوں پر چلنے والے انسان نما روبوٹس کے ساتھ ساتھ چار ٹانگوں والے روبوٹ کتے بھی شریک تھے۔

روبوٹس کے نعرے، انسانوں کی ملازمتوں کا سوال

مظاہرے میں ’ملازمتوں کا دفاع کرو‘، ’قواعد بنانے کا وقت ہے‘ اور ’انتظار مت کرو، ضوابط بناؤ‘ جیسے نعرے سنائی دیے۔ اس دلچسپ احتجاج نے ایک طرف روبوٹ ٹیکنالوجی کی موجودہ صلاحیتوں کی جانب توجہ دلائی تو دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر روبوٹس انسانوں کے لیے بنائے گئے کام انجام دینے لگیں تو مستقبل میں روزگار کی صورتِ حال کیا ہوگی۔

Advertisement SpaceRecommended: 728 × 90 px